بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

امام مسجد کا مسجد کی بجلی اور گیس وغیرہ استعمال کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ائمہ حضرات مساجد کے ساتھ متصل مکان میں بیوی بچوں سمیت رہائش پذیر ہوتے ہیں اور مسجد ہی کی بجلی اور گیس استعمال کرتے ہیں تو شریعت کی رو سے ائمہ حضرات مسجد کی بجلی اور گیس استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں نیز سرکاری مساجد کا حکم بھی بیان کریں ؟

جواب

واضح رہے کہ کسی مسجد میں چندہ دینے والے اگر کسی خاص مصرف کے لیے چندہ دے دیں تو اس کو اسی مد میں خرچ کرنا ضروری ہے ۔ لیکن اگر چندہ دہندہ گان کسی خاص مصرف کی تعیین کئے بغیر چندہ دیں تو اس کو ان کے مطابق مسجد کے مصارف و مصالح میں خرچ کیا جاسکتا ہے ۔مصالح مسجد میں سے امام کی رہائش بھی ہے اورہمارے عرف میں امام مسجد کی رہائش گاہ کا بجلی ، گیس اور پانی کا بل بھی مسجد کے مصالح میں شمار ہوتا ہے اس لیے مسجد کے عمومی چندہ سے یہ اخراجات کرنا جائز ہے ۔ جہاں تک  سر کاری  مساجد کا تعلق ہے تو ان میں عرف کے ساتھ ساتھ متعلقہ محکمہ/ادارہ کے قوانین وضوابط کو مد نظر  رکھنا ضروری ہے جس کو سامنے رکھ کر کوئی رائے دی جا سکتی ہے۔

والدلیل علی ذالک :

           "واذا اراد ان یصرف شیا من ذالک الی امام  المسجد او الی مؤذن المسجد فلیس لہ ذالک الا ان کان الواقف شرط ذالک فی الوقف " .                                                                        (الفتاوی الہندیہ الفصل الثانی فی الوقف و تصرف القیم و غیرہ 2/463)

"وبما ذکرناہ علم انہ لو بنی بیتا علی سطح المسجد لسکنی الامام فانہ لا یضر فی کونہ مسجدا لانہ من المصالح ".   (البحرا لرائق کتاب الوقف قولہ ومن جعل مسجدا تحتہ سرداب 5/421 )


فتویٰ نمبر : 4467/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں