بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 12/08/2026 |
دارالافتاء
بیٹی کا باپ کی زندگی میں حصے کا مطالبہ
سوال
ایک شخص نے اپنی بیٹی کی تعلیم وتربیت پر اور شادی کے موقع پر جہیز دے کر کافی مال خرچ کیا ،اب شادی کے بعد وہ بیٹی باپ سے اس کی زندگی ہی میں جائیداد کا مطالبہ کرتی ہے کہ میرا بھی آپ کی جائیداد میں حصہ بنتا ہے ازروئے شرع بیٹی کا مطالبہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ میں ہر شخص کو اپنے مال وجائیداد پر ملکیت اور جائز تصرف کا حق حاصل ہے،اس ذاتی اور شخصی ملکیت میں کوئی بھی شخص بغیر استحقاق کے حصہ داری کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
صورت مسؤلہ میں جب باپ نے نکاح سے پہلے اپنی بیٹی کے نان ونفقہ کا خیال رکھا ہے تو اس نے اپنی شرعی ذمہ داری پوری کی ہے بیٹی باپ کی زندگی میں اس کے مال وجائیداد میں کسی قسم کا استحقاق نہیں رکھتی ،اور نہ باپ پر زندگی میں اولاد کو مال وجائیداد میں حصہ دار بنانا لازم ہے البتہ اگر باپ اپنی مرضی سے زندگی میں دیگر اولاد کے درمیان جائیداد وغیرہ تقسیم کرتا ہو تو چاہیے کہ سب لڑکے اور لڑکیوں کو حصہ دے ،کسی معقول وجہ کے بغیر کسی کو محروم نہ کرے یا بلا وجہ کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دےاس سے وہ شرعا گنہگار ہوگا کیونکہ اولاد ہونے میں سب برابر ہیں ۔تاہم اگر باپ کسی بیٹے یا بیٹی کے ضرورت مند ہونے یا کمانے سے عاجز ہونے یا زیادہ دیندار ہونے کی وجہ اس کو زیادہ دے تو یہ ممنوع نہیں ۔
كل يتصرف فى ملكه كيف شاء ۔۔۔۔۔لا يمنع احد من التصرف فى ملکه ابدا الا اذا اضر به ضررا فاحشا۔
(شرح المجلة لسليم رستم باز ،المادة:1192،1197 )
ونفقة الاناث واجبة مطلقا على الآباء مالم يتزوجن اذا لم يكن لهن مال۔
(الفتاوى الهندية ،كتاب الطلاق ،الفصل الرابع فى نفقة الاولاد1/609)
يكره تفضيل بعض الاولاد على البعض فى الهبة حالة الصحة الا لزيادة فضل له فى الدين ،وان وهب ماله كله لواحد جاز قضاء وهو آثم ۔ (البحرالرائق ،كتاب الهبة7/288)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں