بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

ایک مجلس میں تین طلاقوں کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین مرتبہ طلاق دے دے تو کیا اس کے بعد وہ اس مطلقہ کیساتھ نکاح کر سکتا ہے یا نہیں ؟شرعا اس کاکیا حکم ہے؟بعض لوگ تین طلاق دینے کے بعد بیوی کو ساتھ رکھتے ہیں اس کے بارے میں قران وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔

جواب

واضح رہے کہ تین طلاق دینے کو طلاق مغلظ کہتے ہیں  یہ اگر چہ سخت گناہ ہے لیکن قرآن وحدیث کی  روشنی  میں  ائمہ اربعہ کا اس کے وقوع پر اتفاق ہےتین طلاق دینے  کی مندرجہ ذیل تین صورتیں ہو سکتی ہیں :

(1)تین مجلسوں میں الگ الگ  تین طلاقیں دے ۔

(2)تین کے عدد کی صراحت کے ساتھ ایک ہی مجلس میں تین  طلاق دے جیسے یوں کہے "تجھے تین طلاق ہے"۔

(3) ایک ہی مجلس میں تین بار صیغہ  طلاق کا تلفظ کرے اور عدد کی صراحت نہ کرے   جیسے یوں کہے  "میں نے طلاق دی ،میں نے طلاق دی ،میں نے طلاق دی "۔                         تینوں صورتوں میں تین طلاقیں واقع ہوکر مدخول بھا عورت  طلاق مغلظ کے ساتھ علیحدہ  ہو جائے گی۔

لہذا اگر  کوئی شوہر عاقل ،بالغ  ہو اور وہ اپنی بیوی کو ہمبستری یا خلوت صحیحہ کے بعد ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دے  تو تین طلاقیں واقع ہوں گی اور عورت کے ساتھ اس کا ازدواجی تعلق ختم ہو جا ئے گا   ذیل میں قرآن وحدیث  سے طلاق ثلاثہ کے  وقوع پرچند دلائل ذكر كئے جاتے ہیں:

(1)قال الله تعالی:"فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ(البقرة:230)

ترجمه:پھر اگراس کو(تیسری)طلاق دے دے  تواس کے بعد وہ اس کیلئے حلال نہ رہی گی یہاں تک کہ وہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے۔

آيت كا حاصل یہ ہے کہ دو طلاق رجعی کے بعد شوہر  رجوع  کا حق رکھتا ہے  لیکن تیسری طلاق دینے کے بعد  رجوع  کا حق ختم ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو جاتی ہے ،آیت کریمہ میں مجلس  کے متحد یا مختلف ہونے کا  کوئی تذکرہ نہیں   لہذا مجلس متحدہویامختلف  دونوں  صورتوں  میں تین طلاقیں دینے  سے عورت مغلظہ ہو جائی گی ۔ احکام القرآن للجصاص 1/386 میں عبارت  مذکور ہے:

فحكم الله بتحريمها عليه في الثالثة بعد الاثنين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو مباح أو محظور ۔

ترجمہ:پس اللہ تعالی   نے دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق سے  عورت کو اس کے شوہر پر حرام قرار دیا اور کسی ایک طہر یا کئی طہروں میں طلاق واقع کرنےکے مابین  فرق نہیں کیا پس تینوں طلاقوں کے وقوع کا حکم لازمی ہوا چاہے طلاق مسنون طریقے سے دی گئی ہو یا مباح طریقے سے یا  ممنوع طریقے  سے۔

(2) صحیح البخاری ج2 ص800 پر عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کا واقعہ مذکور ہے  کہ انہوں نے ایک مجلس میں آپﷺ کے  سامنے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں آپﷺ نے ان کو نافذ قرار دیا اورغیر معتبر قرار نہیں دیا۔حدیث  کے الفاظ یہ ہیں:

حدثنا يحيى قال اخبرنا عبدالرزاق ۔۔۔۔قال(عويمر) كذبت عليها يا رسول الله إن أمسكتها فطلقها ثلاثا قبل أن يأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم حين فرغا من التلاعن ففارقها عند النبيﷺ۔

ترجمہ:عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے  یا رسول اللہ! اگر اب بھی میں  اس عورت کو اپنی زوجیت میں  رکھوں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے اس پر جھوٹی تہمت  لگائی تھی  پس  جب دونوں لعان سے فارغ ہوئےانہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم دینے سے پہلے اس کو تین طلاقیں دےدیں  اور نبی کریم ﷺ کی موجودگی ہی میں اس عورت کو جدا کردیا ۔

 (3)اسی طرح امام بخاری ؒ  نے باب منعقد کیا ہے "باب من اجاز الطلاق الثلاث "اور اسکے ذیل میں  حضرت عویمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کیا ہے  جس سے مقصود ایک مجلس میں طلاق ثلاثہ کے واقع ہونے کا اثبات ہے ۔

(4) طلاق  ثلاثہ کے واقع ہونے کے بارے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا فتوی بھی بخاری شریف میں موجود ہے:

قال الليث حدثني نافع قال :كان ابن عمرإذا سئل عمن طلق ثلاثا قال : لو طلقت مرة أو مرتين فإن النبي ﷺامرنی بهذا(أي بالمراجعة)فإن طلقها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك-۔

جب ابن عمر رضی اللہ عنہ سے تین طلاق دینے والے شخص کے متعلق پوچھا جاتا تو فرماتے"اگر(کسی عورت کو) ایک یا دو مرتبہ طلاق(رجعی) دی جاتی تھی تو آپﷺ  ہمیں رجوع کر نے کا حکم فرماتے ،پس اگر  تین طلاقیں دی ہوں  تو وہ حرام ہو گئی یہاں تک کہ تمہارے علاوہ کسی اورشوہر سے نکاح(اور  ہمبستری)کرے۔(صحيح البخارى ،كتاب الطلاق، ج2 ص792 )

(5) اسی طرح اعمش ؒ نے حضرت علی ؓ سے ایک مجلس میں تین طلاقیں واقع ہونے کو بیان کیا ہے ۔

          عن الاعمش قال ۔۔۔سمعت علی بن ابی طالب ؓ یقول اذا طلق رجل امراته ثلاثا فی مجلس واحد فقد بانت منه ولا تحل له حتی تنکح زوجا غیره۔(السنن الکبری للبیهقی:کتاب الطلاق: من جعل الثلٰث واحدة:ج 11 ص221)

(6)علامہ عینی ؒ نے عمدۃ القاری ج20ص233:پر لکھا ہے

ومذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم منهم الأوزاعي والنخعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه ومالك وأصحابه ومالك وأصحابه والشافعي وأصحابه وأحمد وأصحابه وإسحاق وأبو ثور وأبو عبيد وآخرون كثيرون على أن من طلق امرأته ثلاثا وقعن ولكنه يأثم وقالوا من خالف فيه فهوشاذ مخالف لاهل السنة وانما تعلق به اهل البدع ومن لا يلتفت اليه لشذوذه عن الجماعة اللتى لا يجوز عليهم التواطؤ على تحريف الكتاب والسنة " یعنی جمہور علماء تابعین ؒ،ائمہ اربعہؒ اور ان کے اصحاب کا مذہب ایک  مجلس میں طلاق ثلاثہ کے وقو ع کا ہے  اور فرماتے ہیں کہ جو اس مسئلے میں مخالفت کرتے ہیں  وہ شاذ ، اہل سنت والجماعۃ  کے مخالف ، اور اہل بدعت  ہیں جن کی طرف ان کے شاذ ہونے کی وجہ سے کوئی توجہ  نہیں دی جاسکتی ،کتاب وسنت کی تحریف پر ان کے ساتھ موافقت  جائز نہیں ۔

          طلاق مغلظ کے بعد شوہر اور بیوی کا آپس میں دوبارہ ازدواجی تعلق تب  قائم ہو سکتا ہے جب یہ عورت پہلے شوہر  سے عدت گزار کر کسی اور شخص سے نکاح کرے اور اس دوسرے شوہرسے ہمبستری بھی کر لے اس کے بعد اگر وہ فوت ہو جائےیا  طلاق دے  تو اس دوسرے  شوہر سے  عدت گزار نے کے بعدپہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے ۔

ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ او ثنتيين فی الامة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها  او يموت عنها ۔(الهداية ،باب الرجعة،فصل فيما تحل به المطلقة2/409(


فتویٰ نمبر : 6154/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں