بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 20/10/2026 |
دارالافتاء
دوکاندار کا ادھار کی وجہ سے قیمت بڑھانا
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دوکاندار سے گاہک مہینے بھر کا سودا قرض لے کر جاتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ مہینے کے آخر میں پیسوں کی ادائیگی کروں گا تو چونکہ یہ سودا قرض پر ہے تو کیا دوکاندار کے لیےیہ جائز ہے کہ وہ جو چیز نقد 10 روپے پر دیتا ہے تو قرض دار کو وہ 11 روپے پر دے ۔مثلا:ایک گاہک ہے جو کہ سودا اس بات کے وعدے پر لے کر جاتا ہے کہ مہینےكےآخر میں سارے پیسے دوں گا اب وہ پورا مہینہ قرض پر سودا لے کر جاتا ہے اور اس کے ذمہ ایک لاكھ روپے کھاتہ بن جاتا ہے مطلب پورا مہینہ وہ قرض سودا لے کر جاتا ہے اب جب کہ مہینہ ختم ہوجاتا ہے تو وہ بندہ اس ایک لاکھ روپے میں سے چالیس ہزار روپے دے دیتا ہے اور باقی ساٹھ ہزار اگلے مہینے کے لیے پھر بقایا کرجاتا ہے مطلب دوکاندار کے پیسے پھنس گئے اور صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ اس مہینے پیسے نہیں ہيں تو کیا دوکاندار اس بندے کو جو سودا دیتا ہے اس کے لیے یہ بات جائز ہے کہ وہ اس گاہک کو دس روپے کی چیز بارہ روپے میں لگادے؟
جواب
شریعت مطہرہ نے بیع وشراء کی درستگی کے لیے عقد کے وقت قیمت متعین کرنا ضروری قرار دیا ہے۔بائع اور مشتری کی باہمی رضامندی سے نقد خریدنے کی صورت میں کم قیمت اور ادھار فروختگی کی صورت میں زیادہ قیمت متعین کرنا شرعا درست ہے۔بشرطیکہ عقد کے وقت ادھار یا نقد میں سے کوئی ایک صورت متعین کردی جاے۔نیز ادھار فروخت کرنے میں عقد کی درستگی کی لیے یہ بھی ضروری ہے کہ رقم کی ادائیگی کی تاریخ متعین ہوجائے۔اور یہ بھی لازم ہے کہ ادائیگی میں تاخیر کی صورت اضافہ نہ کیا جائے۔
صورت مسئولہ میں گاہک اور دوکاندار کے لیے ضروری ہے کہ اول ادھاریا نقد میں سےکسی ایک کی تعیین کرلیں۔اور قیمت بھی متعین کردیں اور ادھار کی صورت میں ادائیگی کی تاریخ بھی مقرر کرلیں اگر ان شرائط میں سے کسی ایک شرط کی بھی رعایت نہ رکھی گئی تو عقد فاسد ہو جائے گا۔جس سےدونوں بائع ومشتری گناہ گار ہوں گے۔
ايسے گاہك جو مہینہ بهركی مہلت پر سامان لے جائيں ان كے لئے یہ بات مناسب نہیں كہ پيسوں كی ادائیگی ميں بلا عذر تاخير كريں اور دوكاندار كے ليے ضروری ہے کہ تاخير كی صورت ميں متعين قيمت ہی سے وصول كرے قيمت ميں زيادتی كرنا دوكانداركے ليے جائز نہیں بلکہ یہ سود کے زمرے میں آتا ہے۔
" وَكَذَا إذَا قال بِعْتُكَ هذا الْعَبْدَ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ إلَى سَنَةٍ أو بِأَلْفٍ وَخَمْسِمِائَةٍ إلَى سَنَتَيْنِ لِأَنَّ الثَّمَنَ مَجْهُولٌ۔۔۔۔۔فإذا عَلِمَ وَرَضِيَ بِهِ جَازَ الْبَيْعُ لِأَنَّ الْمَانِعَ من الْجَوَازِ وهو الْجَهَالَةُ عِنْدَ الْعَقْدِ وقد زَالَتْ في الْمَجْلِسِ وَلَهُ حُكْمُ حَالَةِ الْعَقْدِ فَصَارَ كَأَنَّهُ كان مَعْلُومًا عِنْدَ الْعَقْدِ وَإِنْ لم يَعْلَمْ بِهِ حتى إذَا افْتَرَقَا تَقَرَّرَ الْفَسَادُ " ( بدائع الصنائع ،جلد6،ص596، كتاب البيوع، فصل في شروط الصحه )
"وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كانا يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد"
( المبسوط للسرخسي، جلد13، صفحه13، دارالفكر بيروت لبنان )
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 892
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں