بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

بیوی کےعلاج معالجے کا نفقہ


سوال

کیاشرعی طور پر بیوی کاجسمانی علاج خاوند کے فرائض میں سے ہے؟ خصوصاً جب بیوی اپنے خاوند کے تمام حقوق ادا نہ کرتی ہو جیسا کہ خاوند کے بھائی بہن کے ساتھ تعلقات بالکل نہ رکھنا۔یاد رہے کہ میں معاشرت کی بات نہیں کرتا بلکہ شرعی فرض کی بات کرتا ہوں۔برائے کرم وضاحت فر مائیں۔

جواب

ازدواجی بندھن کے سبب  شوہر پر بیوی کانان نفقہ واجب ہوتاہے جس کی تشریح فقہاے کرام نے بنیادی ضروریات زندگی یعنی کھانا  ،لباس اور رہائش  سے کی ہے، البتہ زمانے اور عرف کی تبدیلی سے ان ضروریات کی تشریح  بھی بدل جاتی ہے۔چونکہ آج کل امراض کی کثرت کی وجہ سے علاج معالجہ بھی  ضروریات زندگی کی حیثیت اختیار کرچکاہے کیونکہ اس  کے بغیر شوہر کے ہاں بیوی کاگزر ممکن نہیں، اس لیے  عصر حاضر کے کئی علماء   نے علاج معالجے کو بھی نفقے میں داخل قراردیاہے، لہٰذا شوہر پر لازم ہے  کہ وہ  اپنی وسعت کے بقدر  بیوی کے علاج کے اخراجات برداشت کیاکرے۔  باقی  خاوند کے بہن بھائیوں سے تعلق رکھنا  خاوند کے حقوق میں   داخل نہیں  جس کی عدم رعایت پر بیوی کو ناشزہ(نافرمان) قراردے کر اسے نفقہ سے محروم کیا جائے۔

"وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ"      (البقرۃ233)   

"ليس في النفقة عندنا تقدير لازم ،لأن المقصود من النفقة الكفاية وذالك ممايختلف فيه طباع الناس وأحوالهم ويختلف باختلاف الأوقات أيضا"(البحرالرائق،باب النفقة،4/296)

"ولاتقدیر في النفقة عندنا،وإنمايجب عليه كفايتها بالمعروف وذالك يختلف باختلاف الأوقات والأماكن۔۔۔وھذاکلہ  في عرفهم أما في عرفنا نفقة المرأة تختلف بأحوال الناس"         (قاضيخان2/254)

"ويظهر لدى أن المداواة لم تكن في الماضي حاجة أساسية فلايحتاج الإنسان غالبا إلى العلاج لأنه يلتزم قواعد الصحة والوقاية ،فاجتهاد الفقهاءمبنى على عرف قائم في عصرهم أما الآن فقد أصبحت الحاجة إلى العلاج  كالحاجة إلى الطعام والغذاء بل أهم،۔۔۔۔ لذا فإني أرى وجوب  نفقة الدواء على الزوج كغيرها من النفقات الضرورية"

(الفقه الإسلامى وأدلته، الفصل الخامس النفقات،نفقة الزوجة والأقارب،10/7381)

"لیکن تلاش کے باوجود قرآن وسنت کی کوئی ایسی نص بھی  نہیں ملی جس میں یہ صراحت ہوکہ علاج کاخرچہ شوہر پرواجب نہیں،اس لیے احقر کو کچھ یہ خیال ہوتاہے کہ قرآن کریم میں نفقہ کے ساتھ" المعروف" کی قید لگائی گئی ہے،جس کاحاصل یہ معلوم ہوتاہے کہ نفقہ کاتعین عرف پر مبنی ہے،پچھلے دور میں چونکہ علاج کاخرچہ کچھ لمبا چھوڑا نہیں  ہوتاتھا اس لیے شاید عرف یہ تھا کہ وہ نفقہ میں شامل نہیں،اگر یہ بات درست ہو توعرف کی تبدیلی سے حکم بدلناچاہئے اور بظاہر یہ معلوم ہوتاہے  کہ ہمارے دور میں عرفاً علاج نفقے کاحصہ ہے"       (فتاوٰی عثمانی ،کتاب الطلاق،2/491)


فتویٰ نمبر : 6160/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں