بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
فوجی یونٹ میں باقی ماندہ راشن کی خریدوفروخت
سوال
: کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک سرکاری سیکورٹی ادارہ ہے جس کے مختلف برانچزاور یونٹس ہیں، ادارے کے جوانوں (سپاہیوں ) کو راشن یعنی آٹا،چینی دال وغیرہ حکومت کی طرف سے دیاجاتاہےجس کی ہر دن کے لحاظ سے ایک مقدار مقرر کی گئی ہے،یہ راشن ہریونٹ کوجوانوں کی تعداد کے مطابق دیاجاتاہے پھر اسے یونٹ میں موجود حاضر سروس جوانوں کے استعما ل میں لایا جاتاہے(خواہ لنگر میں پک جائے خواہ خشک دیاجائے) جوانوں کی چھٹی حالات کے مطابق ہوتی ہےجب علاقے میں امن ہو تو وہاں چھٹیاں زیادہ ہوتی ہیں اور ان جوانوں کاراشن بچ جاتاہے پھر یہ بچاہوا راشن دوسرے حاضر سپاہیوں کو مارکیٹ سے کم قیمت پر فروخت کیاجاتاہے،اور حاصل شدہ آمدنی یونٹ کے مختلف کاموں میں آفیسر کی اجازت سےخرچ کی جاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس بچے ہوئے راشن کوفروخت کرنا اور دوسرے سپاہیوں کے لیے اسے خریدنا جائز ہے؟ مسئلے کی مزید وضاحت کے لیے مندرجہ ذیل امور قابل غور ہیں: (1) ادارے کی طرف سے ملازمین کو یہ راشن بطور تملیک کے دیاجاتاہے کیونکہ بعض صورتوں میں انہیں خشک راشن یاراشن منی (پیسوں کی مدمیں) بھی دیاجاتاہے۔ (2) یہ ادارہ انیسویں صدی سے قائم ہے اور غیرمعینہ تاریخ سے یونٹ میں یہ معاملہ جاری ہے۔ (3) اس معاملے پر عام سپاہی سے لے کر آفیسر بالا تک ہر سپاہی کوخبرہے۔ (4) قانوناً ہرسپاہی ہر مہینے میں چار دن کی چھٹی کامجاز ہے۔ اور ان چار دن کے راشن کوبند کرنے کاحکم ہے۔
جواب
حکومتی اداروں کے ذمہ دار افراد پر لازم ہے کہ وہ متعلقہ ادارے کے نظم ونسق سے متعلق صرف وہ امور انجام دیں جن کے وہ قانوناً مجاز ہوں کسی آفیسر کواپنی صوابدید پر کسی ایسے تصرف کااختیار نہیں جس کاقانوناً اسےاجازت نہ ہو، تاہم اگرکہیں پر قانون نے اس کوکسی معاملہ میں اپنی صوابدید پر تصرف کااختیار دیاہو۔توایسی صورت میں وہ صوابدیدی اختیارات استعمال کرسکتا ہے۔صورت مسئولہ میں اگر چھٹی کرنے کی صورت میں ادارے کاسپاہی راشن کا حقدار نہ ہو، بلکہ وہ راشن گورنمنٹ ہی کی ملکیت میں باقی رہتا ہو،نیز آفیسر بالاکو قانوناً باقی ماندہ راشن کوفروخت کرنےاور پھر حاصل شدہ آمدنی کو یونٹ کے کاموں میں صرف کرنے کی اجازت ہو توایسی صورت میں متعلقہ آفیسر کا اس راشن کوفروخت کرنا اور ادارے کےدوسرے سپاہیوں کے لیے اس کو خریدنا جائز ہے۔ لیکن اگر آفیسر بالا کو قانوناً اس راشن کو فروخت کرنے کی اجازت نہ ہو تو پھر نہ تو اس کے لیے اس کوفروخت کرناجائز ہے اور نہ ہی دوسرے سپاہیوں کے لیے اس کا خریدنا جائز ہے۔ بلکہ متعلقہ ادارے کوواپس کرناضروری ہےقانون کے بغیر محض عرصہ دراز سے اس پر عملدرآمد کی وجہ سے یہ معاملہ جائز نہیں ہوسکتا۔
" (البیع)ھومبادلۃ المال بالمال بالتراضي و يلزم بإيجاب وقبول وضعا للمضی وبتعاط"۔ (كنز الدقائق كتاب البيع ص 258)
" وأماشرائط النفاذ فنوعان أحدهما الملك والولاية والثاني أن لا يكون في المبيع حق لغير البائع"۔ (الفتاوٰی الهنديۃ،البيوع،ج3 ص6)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں