بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

کمپنی کی ڈیوائیس کی بجائے اپنے اکاؤنٹ سے ٹرانزیکشن کر کے کمیشن لینا


سوال

1. کمپنی کی دی گئی ڈیوائیس سے شناختی کارڈ پر بھیجنا ، مثلا: کوئی شخص کسی کو دو ہزار بھیجنا چاہے تو اس پر 130 روپے خرچہ آتا ہے جس میں سے 10 روپے کمیشن دوکاندار جبکہ باقی کمپنی کو ملتی ہے۔ 2. لیکن اگر دوکاندار یہی دو ہزار روپے کمپنی کی ڈیوائس کی بجائے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے بھیجے تو اس پر کمنی 80 روپے کٹوتی کرتی ہے۔ ایسے ہی ایزی پیسہ کے ذریعہ یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی بھی ہوتی ہے کمپنی ایک بل جمع کرنے پر دوکاندار کو 2.5 روپے کمین دیتی ہے جوکہ منافع نہ ہونے کے برابر ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا دوکاندار کے لئے یہ بات جائز ہے کہ وہ کمپنی کی ڈیوائس کی بجائے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے کسٹمر کے لئے رقم بھیجے یا بلز جمع کرےاور اس پر ڈیوائیس والی یا کم و بیش کمیشن وصول کرے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے خدمات  کے عوض اجرت حاصل کرنا اجارہ کہلاتا ہے عقد اجارہ کی صحت کے لئے جو شرائط ہیں ان کی رعایت رکھنے کی صورت میں یہ عقد جائز ہے۔

          صورت مسؤلہ میں دوکاندار کا  ایزی پیسہ ڈیوائیس کی بجائے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے کسٹمر کے لئے رقم کی ترسیل کرنا اور  اس سہولت و خدمات کی فراہمی کے عوض اجرت لینا  جائز ہے تاہم  کسٹمر کو اجرت سے متعلق عمل سے پہلے آگاہ کردینا چاہئے تاکہ باہم تنازع کا سبب نہ بنے۔

و ان وردت الإجارة على العمل كالخياطة و الصبغ ،  فلا يجب الأجر مالم يفرغ الأجير من العمل. (شرح المجلة لسليم رستم باز  ، كتاب الإجارة ، الباب الثالث ، ص/265)

(فالأول من يعمل لا لواحد ) كالخياط ونحوه ( أو يعمل له عملا غير موقت )۔۔۔۔۔۔۔( ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل).  (الدر المختار ، كتاب الإجارة ، باب ضمان الأجير ، 9/94)


فتویٰ نمبر : 2734/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں