• الحمد للہ جامعہ عثمانیہ پشاور نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سالانہ امتحان۱۴۳۸میں چھ ملکی اور گیارہ صوبائی پوزیشنیں حاصل کی ہیں۔

داخلہ اور امتحان

تعلیمی سال کے آغاز پر جامعہ میں نظام داخلہ ایک طویل اورمرتب طریقہ کاراور نظام سے گزرتاہے اس نظام کے سلسلے کا ایک حصہ توگزشتہ سال کے آواخرہی سے شروع ہوتاہے اس کی وضاحت اور صحیح صورتحال سامنے آنے کے لیے ضروری ہے کہ جامعہ کی دوسری اہم مجالس میں سے ’’مجلس تعلیمی ‘‘کی حقیقت واضح کی جائے ۔

مجلس تعلیمی اوراس کی ہیئت ترکیبی

مرحلہ تحفیظ وتجوید

    اس مرحلے میں حفظ وتجویدکے جامعہ عثمانیہ پشاوروگلشن عمر کیمپس کے جملہ درجاتِ حفظ کے علاوہ درس نظامی کے شعبۂ بنین وبنات کے ثانویہ خاصہ تک کے تجوید کاحصہ شامل ہے۔

مرحلہ ابتدائیہ

اس میں درس نظامی کے( ثانویہ عامہ سال اول ودوم ) کے علاوہ عثمانیہ چلڈرناکیڈمی کے جماعت ہشتم ،نہم اوردہم کے درجات شامل ہیں (عثمانیہ چلڈرن اکیڈمی میں ساتویں پاس طالب علم کو ان تینوں درجات کے عصری نصاب کے ساتھ ساتھ تین سال میں صرف ونحو اورلغت عربی کے مضبوط .نصاب کے علاوہ درجہ اولیٰ کی دیگر کتب پڑھاکر درجہ ثانیہ کے لیے تیارکیاجاتاہے اس کے ساتھ وہ پشاور بورڈ سے میٹرک کاامتحان بھی پاس کرتاہے

مرحلہ ثانویہ

اس مرحلے میں درس نظامی کے ثانویہ خاصہ سال اول ودوم اوردرجہ عالیہ سال اول ودوم کے درجات شامل ہیں۔

مرحلہ جامعیہ

جس میں عالمیہ سال اول ودوم اوردرجہ تخصص سال او ل ودوم کے درجات شامل ہیں۔

ہرمرحلہ تعلیمیہ کاذمہ دار استادمسؤل کہلاتاہے جو دوسرے اساتذہ میں سے کسی ایک کو اپنا معاون بھی چن سکتا ہے مزید برآں شعبہ بنات کے تعلیمی وانتظامی امور نمٹانے کے لیے مستقل مسؤل مقرر ہے ،یہ چاروں مراحل تعلیمیہ اور شعبۂ بنات جامعہ کے شعبہ تعلیمات کے ذیلی شعبے ہیں اوران کے مسؤلین حضرات گویا ’’ناظم تعلیمات‘‘کے معاون ہیں ۔

مسؤلین کی ذمہ داریاں داخلہ کی کارروائی سے لے کر سال کے آخرتک طلبہ کی انتظامی حوالے سے دیکھ بھال ،ان کی تربیت ،کسی ضرورت کے لیے جزوی یا پورے ایک دن کی رخصت ،غیرحاضری پر باز پرس اور مناسب تادیبی کارروائی ،نتائج کے اعلان کے بعد کمزور یا ناکام طلبہ سے کمزوری یاناکامی کی وجوہات کا استفسار اور پھر اس روشنی میں مجلس تعلیمی کے لیے رپورٹس مرتب کرنا وغیرہ جیسے اہم امور مسؤلین کی ذمہ داریوں کاحصہ ہے ،اپنے مراحل تعلیمیہ میں کوئی مشکل درپیش ہونے کی صورت میں ناظم تعلیمات سے رہنمائی لیتے ہیں ،ایک دن سے زائد کی رخصت بھی ناظم تعلیمات کے اختیار میں ہے ۔

جامعہ کے مہتمم ،ناظم تعلیمات ،مراحل تعلیمیہ کے چاروں مسؤلین اورشعبہ بنات کے مسؤل پر مشتمل مجلس کا نام’’ مجلس تعلیمی ‘‘ہے ۔ یہ مجلس تعلیم سے متعلقہ تمام امور پر کارروائی کرتی ہے ۔تعلیمی ذمہ داریاں بروقت نبھانا ،طلبہ کی سرگرمیوں میں وقت اور حالات کے مطابق فعالیت پیداکرنا، اساتذہ کی توانائیوں کو منظم کرکے برمحل استعمال کرنا مجلس تعلیمی کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔

علاوہ ازیں امتحان داخلہ ،ماہانہ تعلیمی جائزوں اور چہارنیم ماہی وسالانہ امتحانات کا انعقاد ،نتائج کی ترتیب اور اس کا ریکارڈ،مقدار خواندگی کی نگرانی ،تعطیلات کا تعین اور اساتذۂ جامعہ کی صلاحیتوں کو مزید اجا گر کرنے کے لیے تربیتی پروگراموں کا انعقاد اس مجلس کی کارکردگی کا حصہ ہے ۔ہر نئے تعلیمی سال کے لیے طلبہ وطالبات کی نشستوں نیز طلبہ اور درجات کے بڑھنے کی صورت میں نئے اساتذہ کے تقرر کے سلسلے میں تجاویز مرتب کرنابھی اسی مجلس کی ذمہ داریوں کاحصہ ہے ۔

داخلے کاطریقہ کار

ہرسال کے داخلے کے سلسلے میں جمادی الاخری کے اوائل میں ’’مجلس تعلیمی ‘‘کاایک اجلاس منعقدہوتاہے جس میں مذکورہ بالاارکانِ مجلس کے علاوہ جامعہ کے بعض دوسرے اکابراساتذہ کرام بھی شریک ہوتے ہیں ،اس اجلاس میں آئندہ کے لیے دیگر مثبت اوراہم امور کی مشاورت اور ان کے متعلق تجاویز مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ ہردرجے کے لیے طلبہ کی نشستوں کی تعداد کاتعین ہوتاہے اورجمادی الاخری کے آخری عشرہ میں منعقد ہونے والے جامعہ کے سالانہ’’ مجلس شوری‘‘ کے اجلاس میں ان مرتب کردہ تجاویزکو پیش کرکے ان کی منظوری لی جاتی ہے ،واضح رہے کہ مجلس شوری جامعہ کی سب سے زیادہ بااختیار مجلس ہے جو علماء ،ماہرین تعلیم اور جامعہ کے دیگر مخلصین ومعاونین پر مشتمل ہوتی ہے ،اس مجلس کی دیگر ذمہ داریوں میں ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ جامعہ کے مستقبل کے تعلیمی منصوبوں کی منظوری دیتی ہے،گویاجمادی الاخری میں ہی اس بات کا فیصلہ ہوجاتاہے کہ اگلے شوال سے شروع ہونے والے نئے تعلیمی سال میں جامعہ کے کس شعبہ اور کس درجے میں کتنے طلبہ یاطالبات کا داخلہ ہوگا۔ ماہ رجب کے آخری عشرے میں مجلس تعلیمی اورتمام اساتذہ کے مشترکہ سالانہ اجلاس میں آئندہ سال کے داخلے کی تاریخوں کاتعین ہوجاتاہے جس کی روشنی میں آئندہ سال کے داخلہ کی تاریخوں کے لیے ایک منظم شیڈول اورنظام الاوقات تیارکردیاجاتا ہے ، یوں جامعہ کے کسی شعبہ میں داخلہ شوال کے انہی ایام میں ہوتا ہے جواسی شیڈول میں متعین ہوتے ہیں ، یہ شیڈول تقریباڈھائی ماہ پہلے رجب کے عشرۂ اخیرکے اوائل میں جاری ہوتا ہے، جامعہ کی جانب سے اس شیڈول کے باقاعدہ اعلان اورتشہیر کے علاوہ ماہنامہ العصر پشاور میں بھی اسے مشتہرکردیاجا تا ہے ،ان مقررہ ایام کے علاوہ سال بھر میں کسی شعبے میں طالب علم /طالبہ کا داخلہ نہیں ہوسکتا،

شیڈول کے مطابق ایام داخلہ میں سب سے پہلا دن جامعہ کے قدیم طلبہ کے داخلے کی تجدید کے لیے مقررہوتاہے ۔

جامعہ کے قدیم طلبہ کاتجدید داخل

ہردرجے کے لیے مجلس تعلیمی کی مجوزہ نشستوں پر قدیم طلبہ کے داخلے کی تجدید ترجیحی بنیادوں پر ہو تی ہے یعنی قدیم طالبعلم/طالبہ ترقی کرکے جب اگلے درجے میں داخلہ لینا چاہے اور جامعہ اس کی گزشتہ سالانہ کاکردگی سے مطمئن ہو تو نشستوں کی تعداد اولاًان قدیم طلبہ وطالبات سے پوری کرنے کی کوشش کی جا تی ہے ۔تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ مقررہ تاریخ میں تجدید داخلہ ہو،قدیم طلبہ کے داخلے کی تجدیدکے بعداگرمقررہ نشستوں میں جدید طلبہ وطالبات کی گنجائش ہوتی ہے تو جد ید طلبہ وطالبات کوباقاعدہ امتحان کے بعد مقررہ نشستوں پرداخلہ دیاجاتاہے۔

جدید طلبہ کے داخلے کانظام

شیڈول کے مطابق داخلے کے طریقہ کار کو آسان سے آسان تربنانے کی خاطر تعلیم کے مختلف شعبوں میں داخلہ کے خواہشمندطلبہ وطالبات کے لیے الگ الگ ایام مقرر ہوتے ہیں ،چنانچہ شعبہ تحفیظ القرآن الکریم ،شعبہ تخصص، شعبہ درس نظامی بنین ، شعبہ درس نظامی بنات میں امتحانِ داخلہ کی الگ الگ تاریخیں مقررہوتی ہیں ۔

پھر یہ بھی واضح رہے کہ ہرشعبہ میں داخلہ لینے کے لیے جامعہ کی جانب سے کچھ مخصوص شرائط مقرر ہیں جن میں سے درس نظامی بنین کے درجہ اولیٰ میں داخلہ لینے کے لیے اہم ترین شرط کم ازکم میٹرک پاس ہوناہے ،اسی طرح درس نظامی بنات کے سال اول میں کم ازکم مڈل کی صلاحیت اور سال دوم میں کم ازکم میٹرک پاس ہوناضروری ہے اسی طرح دوسرے درجات میں بھی چند دیگر شرائط ہیں ،اس لیے داخلہ لینے کے خواہشمند حضرات داخلہ فارم لینے سے قبل دفتر تعلیمات میں حاضر ہوتے ہیں ،ناظم تعلیمات صاحب ان سے کوائف معلوم کرتے ہیں ،ساتھ لائی ہوئی تحتانی سندات اور اہلیت کے ثبوتوں کو دیکھتے ہیں پھراگر وہ جامعہ کے معیار پر پورے ہوں تو تب اس امیدوار کو وہاں سے داخلہ فارم کی وصولی کے لیے ایک پرچی دی جاتی ہے ۔

داخلہ فارم کے حصول کاطریقہ

طلبہ کی سہولت کے لیے مراحل تعلیمیہ کے اعتبارسے داخلہ فارم کے حصول کے لیے الگ الگ نشستیں مقرر ہوتی ہیں جہاں مسؤلین حضرات تشریف فرماہوتے ہیں جن کے پاس داخلہ فارم ہواکرتے ہیں ،ہر درجے کاامیدوار متعلقہ مرحلہ کے مسؤل سے داخلہ فارم کے حصو ل کی پرچی دکھاکر فارم وصول کرتاہے ۔

وضاحت نمبر۱

انتظامی ضرورت کے پیش نظر داخلہ کے ہرنئے امیدوار طالب علم (طالبہ نہیں )کے پاس فار م وصول کرتے وقت تین عدد تازہ ترین رنگین تصاویرکا موجود ہوناضروری ہے ،امیدوار کے لیے تین عددتصاویر ساتھ لانے کااعلان پہلے سے مشتہر کیاجاتاہے ،فارم دہندہ مسؤل امیدوار سے تصاویر وصول کرکے مخصوص رنگین مارکر سے ان تصاویر اورفارم پر مخصوص لکیریں کھینچتاہے اور مدرسے کے مونوگرام کی بنی ہوئی ایک چھوٹی سی مہر اس پر ثبت کرکے انہیں فارم کے ساتھ نتھی کردیتاہے تاکہ دوران امتحان اصل امیدوار کی صحیح شناخت ہوسکے اورکوئی متبادل امتحان داخلہ دینے میں کامیاب نہ ہو۔

فارم وصول کرنے والاامیدوار داخلہ فار م اپنے پاس محفوظ رکھتاہے،داخلے کی مقررہ تاریخ پر ساتھ لاکر امتحان داخلہ میں شرکت کرتاہے اورپھرجوابی کاپی کے ساتھ اسی فارم کو نتھی کردیاجاتاہے ،یوں جوابی کاپی اورفارم داخلہ دونوں ایک ساتھ طالب علم سے وصول کیے جاتے ہیں۔

درس نظامی اوردوسرے شعبوں میں امتحانِ داخلہ کاطریقہ کار بعدمیں آنے والے سطور سے واضح کردیاجائے گاالبتہ شعبہ حفظ میں اس امتحان کی نوعیت مختلف ہوتی ہے ۔

شعبہ حفظ میں امتحانِ داخلہ اور اس کاطریقہ

.شعبہ حفظ میں داخلہ چند مراحل پر مشتمل ہوتاہے

پہلامرحلہ

مقررہ شیڈول کے مطابق جامعہ کے شعبہ حفظ میں داخلہ کیے لیے ایک دن مقرر ہوتاہے جس میں امیدوار طلبہ بمع اپنے سرپرستوں کے داخلہ کی امیدلے کر حاضرہوتے ہیں ،داخلہ فارم وصول کرنے کے بعد اولاًان امیدوار طلبہ سے ناظرۂ قرآن کاامتحان ممتحن قاری صاحب لیتے ہیں تاکہ جانچ سکیں کہ طالب علم ناظرہ خواں ہے یانہیں؟اورناظرہ پڑھتاہے تو کس نوعیت کا؟ناظرہ کے کل دس (10)نمبرات ہوتے ہیں ،پانچ (5)یا اس سے زائد نمبرات حاصل کرنے والا طالب علم اگلے مرحلے تک اپنی رسائی ممکن بنادیتاہے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ شعبہ حفظ میں داخلے کا امیدوار طالب علم تیرہ سال سے زائد عمرکانہ ہو ورنہ وہ ہمارے ہاں داخلے کااستحقاق ہی نہیں رکھتا۔

دوسرامرحلہ

حفظ قرآن کریم میں داخلہ کے لیے منٹوں کے حساب سے مقرر ہ وقت میں کسی بھی پارے اور سورۃ کے درمیان میں سے تقریبا دس تا پندرہ مختصرآیات کریمہ طلبہ کو یادکرانے کے لیے دی جاتی ہیں ،دس یاپندرہ طلبہ پر مشتمل طلبہ کی جماعتیں بنائی جاتی ہیں ،ہر جماعت کی نگرانی ایک ممتحن استاد کے ذمہ ہوتی ہے ،طلبہ مقررہ وقت میں مذکور ہ آیات یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں واضح رہے کہ ممتحن صاحب جو قراء حضرات ہی میں سے ہوتے ہیں پہلے مفوضہ آیات کریمہ دویاتین مرتبہ ان طلبہ کے ساتھ ناظرہ کی صورت میں دہراتے ہیں ،نیز سب طلبہ کے قرآن مجید کے نسخے بھی ایک جیسے ہوتے ہیں ۔

متعلقہ ممتحن صاحب مقررہ وقت نوٹ کرکے فارم داخلہ میں’’ مادۂ امتحان‘‘ کے نام سے بنے ہوئے خانے میں سورۃ کانام ،آیت نمبر فلاں تا فلاں لکھ کر طلبہ کو یاد کرانے کے لیے بٹھاتے ہیں ، دی ہوئی آیا ت یادکرنے کا یہ دورانیہ بیس منٹ کاہوتاہے البتہ طالب علم جلد یاد کرکے سنانا چاہے تو اس کی بھی اجازت ہوتی ہے بلکہ ایسے طالب علم کے حافظے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اگر وہ غلطی نہ کر ے تو ۔

اس امتحان کے کل نمبرات ساٹھ (60)ہوتے ہیں جب کہ ایک غلطی پر پانچ نمبرات کاٹ دیئے جاتے ہیں جیساکہ حفظ کے داخلہ فارم سے واضح ہے ،تیس (30)سے کم نمبرات لینے والا طالب علم ناکام شمار ہوتاہے۔

مقررہ ممتحن قاری صاحب ان سے مفوضہ آیات سنتے ہیں ،اور حاصل کردہ نمبرات کافارم داخلہ ہی میں اندراج کرتے ہیں پھر یادداشت کے اعتبارسے طلبہ کے ’’الف،ب اورج ‘‘کے گروپ بنائے جاتے ہیں،اگرطالب علم نے ان آیات کو دس منٹ تک یادکرکے سنایا اور غلطیاں نہ کی ہوں تو یہ’’ الف گروپ‘‘ میں شامل ہوتاہے اوراگر پندرہ منٹ کے بعدسنائے تو گروپ ’’ب ‘‘میں جب کہ بیس منٹ کے بعد سنانے والاطالب علم گروپ ’’ج‘‘ میں شمار ہوتاہے ،نمبرات کا اندراج کرکے فارم کے آخر میں ممتحن صاحب دستخط ثبت کرتے ہیں اورشعبہ حفظ کے مسؤل صاحب بھی اپنے تاثرات لکھ کر دستخط کردیتے ہیں۔

تیسرامرحلہ

یہ مرحلہ تمام امیدوار وں کی تفصیلی رپورٹ آنے کے بعدانٹرویواور انتخاب کا ہوتاہے اب جو طلبہ گروپ’’ الف‘‘ میں آکر زیادہ نمبرات لیتے ہیں وہ اولین مستحقین داخلہ ہوتے ہیں ،پھر اس کے بعدگروپ ’’ب اور ج ‘‘سے انتخاب ہوتاہے ،واضح رہے کہ حضرت مفتی غلام الرحمن صاحب (مہتمم جامعہ عثمانیہ )خودبھی شعبہ حفظ کے داخلے کے دن امتحان داخلہ میں شریک ہوتے ہیں اور اساتذہ کرام سے مشاورت کرکے حفظ کے جدید طلبہ کاانتخاب کردیتے ہیں،بڑے مدارس وجامعات میں شعبہ حفظ کے داخلے میں اتنا اہتمام شاید ہی کہیں ہو۔

شعبہ درس نظامی میں امتحان داخلہ اور اس کاطریقہ

              جدید طلبہ سے داخلے کے لیے دوطرح کے امتحان لیے جا تے ہیں ۔

تحریری امتحان

              درس نظامی (بنین )تخصص فی الفقہ اور درس نظامی (بنات) کے شعبوں میں شیڈول کے مطابق داخلے کے لیے مقررہ الگ الگ تاریخوں میں تحریری امتحان لیا جا تا ہے۔

تین گھنٹوں پر مشتمل دورانیہ کا ایک پر چہ امیدوار حل کرتا ہے ،امتحان داخلہ کے نتائج کے لیے تاریخ کا اعلان پہلے ہی ہو چکا ہو تا ہے امتحانِ داخلہ اور دوسرے جائزات وامتحانات میں پرچے کامعیار کیا ہوتاہے ؟اس کی تفصیل کاصفحہ دیگرفارموں کے ساتھ منسلک کردیاگیاہے ،کچھ تفصیل ’’امتحانات کے سوالیہ پرچے ‘‘کے عنوان کے تحت بھی آجائے گی مگر یہاں امتحان داخلہ کے حوالے سے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ جدید طلبہ کا امتحان داخلہ کون سی کتابوں میں لیاجاتاہے ؟سو درجہ اولیٰ میں داخلہ لینے کے لیے چونکہ امیدوارکا میٹرک پاس ہونا شرط ہے اس لیے اس درجے کے امتحان کاسوالیہ پرچہ میٹرک کے نصاب میں تیارکیاجاتاہے جس میں اردومیڈیم اورانگلش میڈیم دونوں نصابوں کی حتی الامکان رعایت رکھی جاتی ہے تاہم ایک آدھ سوا ل جنرل قسم کا بھی ہوتاہے جس سے طالب علم کے ذہنی رجحان کو جانچا جاتاہے جب کہ دوسرے درجات کاامتحان داخلہ تحتانی پڑھے ہوئے درجے کے نصاب میں ہوتاہے مثلا درجہ رابعہ کے امیدوار طالب علم کے لیے درجہ ثالثہ کے نصاب میں امتحان کاپرچہ بنایاجاتاہے اسی طرح درجہ تخصص کے لیے تحتانی نصاب کے تقریبا ہر فن میں ایک سوال رکھاجاتاہے اور اس پرچے میں بھی ایک آدھ سوال جنرل قسم کا ہوتاہے،اس پرچے اوردرجہ اولی کے پرچے کانمونہ لف کیاجاتا ہے ۔

سوالیہ پرچہ

ہردرجے کا سوالیہ پرچہ چھ سوالات پرمشتمل ہوتاہے جس میں کوئی اختیاری سوال نہیں ہوتا،ہر سوال دس نمبرکاہوتاہے اس طرح امتحان داخلہ کے کل نمبرات ساٹھ (60)ہوتے ہیں جن میں 30/60حاصل کرنے والا امیدوار کامیاب قرار دیاجاتاہے ۔

وضاحت نمبر۲

تحریری امتحان کے لیے مقررہ دن اوروقت پر تمام امیدوار وں کو امتحان ہال میں بٹھادیاجاتاہے ،امتحان ہال کے مختلف دروازوں پر امیدوار کی مصدّقہ تصویر لگے فارم کو جانچا جاتاہے تا کہ امیدوار کی جگہ کوئی دوسرا امتحان نہ دے ،بعدازاں انہیں جوابات لکھنے کے لیے جامعہ کی اپنی مطبوعہ جوابی کاپی دی جاتی ہے ،سوالیہ پرچہ تقسیم ہونے سے قبل تمام امیدواروں کو اعلانات کے ذریعے بتادیاجاتاہے کہ کوئی بھی امیدوار جوابی پرچہ پر اپنانام ،ولدیت یاایسی کوئی علامت جس سے طالب علم کی شناخت ہوسکتی ہو نہ لکھیں ،اور یہ کہ طالب علم کاپُرکیاہواداخلہ فارم ہی اس کی شناخت کاذریعہ ہوگا ،پھر جوابی کاپی کے ساتھ اسی فارم کو نتھی کردیا جاتاہے اورہردرجے کے امیدواروں سے درجہ وار پرچے وصول کیے جاتے ہیں ،اس کے بعد دفتر تعلیمات میں ہرطالب علم کی جوابی کاپی اورداخلہ فارم پر ایک فرضی رول نمبر لکھ کرفارم داخلہ الگ کردیاجاتاہے اس طرح ممتحنین کے پاس جوابی کاپی اس حالت میں جاتی ہے کہ اس پر صرف یہی فرضی رول نمبر درج ہوتاہے تاکہ کسی طرف میلان کے بغیر پوری دیانت دار ی کے ساتھ پرچے چیک کیے جاسکیں ۔

پرچے زیادہ ہونے کی صورت میں ایک درجے کاپرچہ دویاتین اساتذہ پر اس طرح تقسیم کردیاجاتاہے کہ ہر استاد پرچے کے مخصوص جوابات کوچیک کرتے ہیں مثلا درجہ رابعہ کے امیدوار تمام طلبہ کے کافیہ ،شرح تہذیب اور اصول الشاشی کے جوابات ایک استادجب کہ کنز الدقائق ،نفحہ العرب اورترجمہ وحدیث کے جوابات دوسرے استاد چیک کریں گے تاکہ نتائج میں یکسانیت رہے کبھی یہ تقسیم دودوسوالوں کی ہوتی ہے ۔

شفوی امتحان

یہ امتحان داخلے کے ان امیدواروں سے لیا جا تا ہے جو تحریری امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد انٹر ویو کے لیے بلائے جاتے ہیں ۔شفوی امتحان میں ناظرۂ قرآن کریم نیز سابقہ درجے کی ایک دواہم کتابوں کا زبانی امتحان لیا جا تا ہے تاکہ امیدوار کی علمی استعدادکا مزید اندازہ لگا یا جا سکے ۔اس میں کامیابی کے بعد طالب علم انٹر ویو کا اہل سمجھا جا تا ہے ،یہ بھی واضح رہے کہ ناظرۂ قرآن کاامتحان ہردرجے کے طالب علم سے لیاجاتاہے اور اس کا پس منظریہ ہے کہ بعض ایسے واقعات بھی پیش آئے کہ طالب علم نے کسی وسطانی یافوقانی درجے میں داخلہ لیاہے بعدمیں معلوم ہوا ہے کہ ناظر ہ خواں نہیں ،یہ بھی واضح رہے کہ صرف ناظرہ میں کمزوری کی وجہ سے طالب علم کاداخلہ مستردنہیں کیاجاتابلکہ شعبہ تجوید کے ذمہ دار استاد اس قسم کے کمزور طلبہ کی فہرست تیارکرتے ہیں اوران کے لیے روزانہ ناظرہ کے سبق کا نظام الاوقات بنایاجاتاہے ۔ اساتذۂ جامعہ پر چوں کی چیکنگ کے بعد جو نتائج مرتب کرتے ہیں ،مجلس تعلیمی کے اجلاس میں ایک بارپھر ان پر نظرثانی ہو تی ہے اور ہر درجے کی مقررہ نشستوں کی تعداد کو پیش نظر رکھ کر میر ٹ کی بنیاد پر کامیاب طلبہ کو انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہے ۔

انٹرویو

اس مرحلے تک پہنچنے سے قبل طالب علم کے مکمل تعارف ،اس کی سابقہ زندگی ،خاندانی پس منظر ،ذہنی رجحانات ،عصری تعلیم اور دیگر سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے اس سے مختصر سوالا ت پر مشتمل ’’جائزہ فارم‘‘پر کروایاجا تا ہے ۔جس سے اس کی باطنی شخصیت اوررجحانات کی ایک دھندلی سی تصویر سامنے آجا تی ہے ۔مزید معلومات کے لیے باقاعدہ انٹر ویو ہو تا ہے ۔جس میں مہتمم جامعہ ،ناظم تعلیمات اور سینئر اساتذہ میں سے ایک دو حضرات بھی موجود ہو تے ہیں ۔داخلہ کا یہ آخری اور اہم مرحلہ ہو تا ہے ۔بعض اوقات تحریری اور شفوی امتحانات میں امتیازی کامیابی حاصل کرنے والا طالب علم انٹرویو میں مطلوبہ معیار پر پورانہ اتر نے کی وجہ سے داخلے کے لیے نااہل قرار پا تا ہے ۔بہر حال اس انٹر ویو میں کامیابی کے بعد ہی طالب علم کے داخلے کی تکمیل ہو تی ہے ۔اور دفتر تعلیمات سے اسے داخلے کی ایک ’’پر چی ‘‘مل جا تی ہے ۔

رجسٹریشن

داخلہ کی مکمل کارروائی پایہ تکمیل تک پہنچنے کے بعدداخلہ پانے والے ہر طالب علم کے بارے میں پوری معلومات رجسٹریشن نمبر کے حوالہ سے محفوظ ہو تی ہیں۔یہاں تک کہ داخلہ امتحان ،چھ ماہانہ جائزوں ،اختبارنصف السنۃ اورالاختبارالسنوی کے نتائج بھی رجسٹریشن نمبر کے حوالے سے درج ہو تے ہیں ۔ہر نئے طالب علم کو رجسٹر یشن نمبر دیا جا تا ہے ۔جوجامعہ میں اس کے تعلیمی دورانیے کے آخرتک ایک رہتا ہے ۔کمپیوٹرائزڈ پر وگرام سے قبل کے وقت تک یہ تمام نمبرایک رجسٹر کے حوالہ سے محفوظ ہیں جبکہ ابھی کمپیوٹرائز ڈریکارڈ میں یہ معلومات درج ہو تی ہیں۔عموماًذی القعدہ کی یکم تاریخ تک نئے طلبہ کی رجسٹریشن مکمل ہوجاتی ہے۔طلبہ وطالبات کو مدرسے کاشناختی کارڈ ،کشف الدرجات (D.M.C)بھی اسی نمبر کے حوالہ سے جاری ہوتا ہے۔(طالبات کے شناختی کارڈمیں تصویرنہیں ہوتی)یہ بھی واضح رہے کہ یکم ذی قعد تک موجود تمام طلبہ جامعہ کے باقاعدہ طلبہ تصورکیے جاتے ہیں،داخلے کی تکمیل کے بعد یکم ذی قعد سے قبل چلے جانے والے طلبہ کو داخل طلبہ میں شمار نہیں کیاجاتا،نہ ہی ان کا کسی قسم کا ریکارڈ محفوظ کیاجاتاہے ،یکم ذی قعدہ کے بعد ہی تمام طلبہ وطالبات کو ارقام الجلوس جاری کردیے جاتے ہیں جو سال بھر کے تمام جائزوں اورامتحانات کے لیے ہوتے ہیں اور امتحان میں طالب علم کے تعارف کاواحدذریعہ ہوتے ہیں۔

جامعہ کے دوسرے امتحانات کانظام

جامعہ عثمانیہ کے امتحان داخلہ (جس کی تفصیل گزرچکی ہے )کے علاوہ یوم تاسیس(1992ء ؁)سے ہی اس کے امتحانات کا ایک منفرد نظام بناہوا ہے ۔قدیم اور عام مدارس کے نظام سے مختلف ہو نے کی وجہ سے کئی برس تک یہ نظام اہل مدارس کے ہاں اجنبیت کا شکار رہا،مگر رفتہ رفتہ بحمداللہ اس کی اجنبیت مقبولیت میں تبدیل ہوتی گئی اور اب ملک کے بڑے جامعات اور مایہ ناز مدارس کے لیے بھی یہ اجنبی ،نامانوس اورناقابل عمل نہیں رہا،شروع شروع میں بعض حضرات نے یہ خیال بھی ظاہرفرمایاکہ چونکہ ابھی جامعہ میں ابتدائی درجات ہیں ان میں بھی طلبہ کی تعداد کوئی زیادہ نہیں ہے اس لیے یہ نظام چل رہاہے بعد میں جب سارے درجات پڑھائے جائیں گے طلبہ کی تعداد کافی ہوجائے گی تو یہ نظام چلانا ممکن نہیں ہوگا لیکن بحمداللہ گیارہ برس قبل جب درجات پورے ہوگئے ،دورۂ حدیث ،تخصص وغیرہ کے علاوہ شعبۂ بنات بھی دورۂ حدیث تک پہنچ گیا،تعدادبھی اچھی خاصی ہوگئی لیکن یہ نظام آج تک اسی طرح چل رہاہے ۔

جائزوں کانظام

یہ ’’ماہانہ تعلیمی جائزوں ‘‘کا نظام ہے ہرجائزے کے لیے تاریخ اور دن تعلیمی سال کی ابتداء میں تیارکیے گئے شیڈول کے مطابق پہلے سے طے ہوتاہے مقررہ تاریخ کی آمد سے ایک ہفتہ قبل طلبہ کی اطلاع کے لیے اعلان لگادیاجاتاہے اورشفوی امتحان کے لیے دن متعین کردیاجاتاہے ،ماہانہ جائزوں کے لیے اسباق بند نہیں کیے جاتے بلکہ جائزہ کے دن بھی باقاعدہ اسباق ہوتے ہیں اور تین گھنٹوں کایہ پرچہ جائز ہ کے لیے مقرر ہ دن میں بعدالظہر تاعصر ہواکرتاہے ،ہردرجے کے شفوی جائزے اور پرچہ کی تیاری کے لیے ناظم تعلیمات کی جانب سے درجے کی نوعیت کے اعتبارسے ایک ہفتہ قبل استادکا انتخاب کیاجاتاہے ان کو شفوی جائزے کے لیے مقررہ فائل حوالہ کی جاتی ہے ،فائل میں ماہانہ مقدار خواندگی درج کرنے کے خانوں،طلبہ کی تعلیمی کیفیت جانچنے کے لیے ان کے ناموں کی فہرست اور آخر میں ہرجائزے کے متعلق ممتحن کی جانب سے ضروری ملحوظات رپورٹ کے طورپر لکھنے کی تفصیلات ہوتی ہیں ۔

وضاحت نمبر۳

یادرہے کہ ہر ماہانہ تعلیمی جائزے اورچہارنیم ماہی وسالانہ امتحانات کیساتھ ہرطالب علم کا شفوی (زبانی)امتحان بھی درجے کی ایک یادوکتابوں میں لیاجا تا ہے ۔تاکہ طالب علم کی صلاحیت واستعداد کا اچھی طرح اندازہ ہوسکے ،البتہ ماہانہ جائز ہ میں شفوی امتحان کے لیے نمبرات نہیں ہوتے جبکہ چہارنیم ماہی اور سالانہ امتحانات میں شفوی امتحان کے لیے ہرپرچے میں سو(100)نمبرات میں سے پندرہ(15)نمبرات مخصوص ہوتے ہیں ۔

وضاحت نمبر۴

ہمارے ہاں چہارنیم ماہی امتحان تک ہر درجے کے لیے ہر جائزے میں مخصوص منتخب احادیث یاد کرنے کانظام بھی رائج ہے ، ہرماہانہ جائزے اورچہارنیم ماہی امتحان میں منتخب احادیث طلبہ سے سننا بھی شفوی جائزے کاحصہ ہے ۔ جائزے کے پرچے کی ساخت ممتحنین حضرات جب شفوی جائزے سے فارغ ہوتے ہیں تو تحریری امتحان کے لیے پرچے تیارکرتے ہیں،جس کی روسے ہر ماہ کی مقرر ہ مقدار خواندگی میں درجے کی ہرکتا ب میں سے ایک ایک سوال لے کر سوالیہ پر چہ مرتب کیا جاتاہے ۔چھ سوالات پر مشتمل اس پرچے کے کل نمبرات ساٹھ ہوتے ہیں، ہر سوال دس نمبرات کا ہوتا ہے۔کامیابی کے لیے پچاس فیصد نمبر ات کا حصول ضروری ہے ۔علاوہ ازیں کامیابی کے مختلف درجات کچھ یوں ہیں
ممتا ز( A one Grade ) 48/60 جید جدا(A Grade) 42/60 جید (B Grade) 36/60
مقبول (C Grade)30/60 اس طرح 30/60سے کم نمبرات لینے والاطالب علم ناکام قرار دیاجاتاہے۔
پرچوں کی تیاری کے بعد ممتحنین اپنے پرچے کو دفترتعلیمات کے حوالہ کردیتے ہیں پھر وہاں وہ پرچے ناظم تعلیمات صاحب کی نظر سے گزرتے ہیں اگران میں کچھ حک واضافہ وہ مناسب سمجھتے ہیں تو کرلیتے ہیں اس کے بعدان پرچوں کی کمپوزنگ کی جاتی ہے

وضاحت نمبر۵

امتحان ہال میں طالب علم کو جامعہ کی اپنی طبع شدہ جوابی کاپی دے دی جاتی ہے جس پر صرف طالب علم کی شناخت کے لیے اس کے رول نمبرکاخانہ ہوتاہے ،نام ،ولدیت یاایسی کوئی علامت جس سے طالب علم کی شناخت بوسکتی ہو ،لکھناممنوع ہوتاہے ۔

وضاحت نمبر۶

طالب علم جب پرچہ حل کرنے سے فارغ ہوجاتاہے اوراپنی جوابی کاپی ممتحن کے حوالے کرتاہے تو اس کی وصولی یقینی بنانے کے لیے ایک الگ فارم ہوتاہے جس میں طالب علم کانام ،ولدیت اور رول نمبر لکھاہواہوتاہے طالب علم اپنے نام کے سامنے دستخط ثبت کرتا ہے تو تب اس کی جوابی کاپی وصول کی جاتی ہے ،اس فارم کا نمونہ بھی لف ہے۔

وضاحت نمبر۷

واضح رہے کہ ہر جائزے اور دوسرے امتحانات میں ہرممتحن کو دفتر تعلیمات کی جانب سے اندراج نمبرات کے لیے ایک فارم دیاجاتاہے رول نمبرکی ترتیب سے ہرممتحن اس میں طلبہ کے نتائج مرتب کرتاہے اور اسی فارم کو پرچوں سمیت دفتر تعلیمات میں جمع کرتاہے پھر دفتر تعلیمات میں طلبہ کے ناموں کے ساتھ نتائج مرتب کرنے کا اہتمام کیاجاتاہے جن کی منظوری کے بعد ناظم تعلیمات نتائج پر دستخط ثبت کرتے ہیں اورنتائج کااعلان کردیاجاتاہے۔

وضاحت نمبر۸

ہرماہانہ تعلیمی جائزے کے نتائج کے اعلان کے بعد مجلس تعلیمی کا اجلاس ہوتاہے جس میں دیگر تعلیمی امور کے علاوہ طلبہ کے نتائج خاص طور سے زیر بحث آتے ہیں ،کمزور اورناکام طلبہ کی کمزوری اور ناکامی کی وجوہات پر غوروخوض کیاجاتاہے اور آئندہ کے لیے ان کمزوریوں کے ازالے کے لیے ایک لائحہ عمل طے کیاجاتاہے ۔

وضاحت نمبر۹

جامعہ میں سال بھر کے تمام جائزوں اورامتحانات، مجلس تعلیمی کے اجلاسات اور دیگر سرگرمیوں کے لیے سال کے شروع میں ہی ایک شیڈول تیار کردیاجاتاہے اورسال بھر اس کی پابندی ہوتی ہے ۔

چہارنیم ماہی امتحان

ذیقعد ،محرم اور صفر کے تین ماہانہ تعلیمی جائز وں کے بعد ربیع الاول میں ایک بڑا امتحان ہو تا ہے۔جسے چہارنیم ماہی امتحان (اختبار نصف السنۃ ) کا نام دیا گیا ہے ،یہ امتحان چاردنوں پر مشتمل ہوتاہے تین دن تحریری امتحان کے لیے مقرر ہوتے ہیں ،روزانہ دوپرچے ہواکرتے ہیں جب کہ ایک دن شفوی امتحان کے لیے ہوتاہے ،واضح رہے کہ اس امتحان کی تیاری کے لیے طلبہ کو تین دن دیے جاتے ہیں ،ہردرجے کی ہر کتاب کا سو(100)نمبرات کا پرچہ ہو تا ہے ،اس طرح کل چھ پرچوں کے نمبرات چھ سو بنتے ہیں ،یہ بھی واضح رہے کہ چہارنیم ماہی امتحان کے مجموعی نمبرات کے ساتھ گزشتہ تین جائزات کے نمبرات بھی جمع کیے جاتے ہیں گویا اس صورت میں اس امتحان کے کل نمبرات (780=180+600)آتے ہیں جس میں کامیابی کے مختلف درجات کچھ یوں ہے.

ممتا ز( A one Grade )/780 624 جید جدا(A Grade) /780 546 جید (B Grade) /780 468
مقبول (C Grade)/780 390 اس طرح 390/780سے کم نمبرات لینے والاطالب علم ناکام قرار دیاجاتاہے۔

وضاحت نمبر۱۰

جس طرح ہرجائزے میں شفوی امتحان ہواکرتاہے اسی طرح چہارنیم ماہی امتحان کے موقع پربھی شفوی امتحان ہوتاہے اورجس طرح ہرجائزے میں شفوی امتحان کے لیے ایک الگ فائل ہوتی ہے اسی طرح چہارنیم ماہی اور سالانہ امتحانات میں ایک نتیجہ فارم بھی ہوتاہے یہ فارم متعلقہ استاد کو فراہم کیاجاتاہے فارم میں صرف اور صرف طلبہ کے رول نمبر ہوتے ہیں ،نام،ولدیت یا دوسرے شناختی علامات اس میں بالکل نہیں ہوتے ،اس فارم میں ایک خانہ پرچوں کی چیکنگ کے بعدتحریری نمبرات کے اندراج کے لیے ،ایک خانہ عربی یا خوشخظی کے نمبرات کے لیے اور ایک خانہ شفوی نمبرات کے اندراج کے لیے متعین ہوتاہے،یوں اس نتیجہ فارم میں ممتحن رول نمبر کی ترتیب سے تحریری اورشفوی نمبرات مندرج کرکے متعلقہ کتاب کے نتائج مرتب کرتاہے ،پھر جوابی پرچوں سمیت یہی مرتب کردہ نتائج دفتر تعلیمات کے حوالے کیے جاتے ہیں اور جائزوں کی طرح اس امتحان میں بھی باقاعدہ نا م ،ولدیت ،رجسٹریشن نمبر اوررول نمبر پرمشتمل فارم میں ان کا اندراج ہوتاہے اورباضابطہ نتائج کی کاپیاں پرنٹ کرکے ناظم تعلیمات صاحب اس پر اپنے دستخط ثبت کردیتے ہیں اور ان کا اعلان کیاجاتاہے ۔

سالانہ امتحان

ربیع الثانی،جمادی الاولیٰ اور جمادی الثانیہ کے تین ماہانہ تعلیمی جائزوں کے بعد رجب کے آخر میں سالانہ امتحان منعقد ہو تا ہے جس کاطریقہ کار تقریباًچہارنیم ماہی امتحان ہی کی طرح ہے ،البتہ جامعہ میں سالانہ امتحان صرف غیر وفاقی درجات کا لیا جا تاہے ،وفاقی درجات کاامتحان مدارس کے سب سے بڑے بورڈ ’’وفاق المدارس العربیہ پاکستا ن‘‘کے تحت ہوتا ہے جس کے ساتھ جامعہ روز اوّل سے ملحق ہے ۔

وضاحت نمبر۱۱

چھ جائزوں کے 360 نمبرات چہارنیم ماہی اور سالانہ امتحان کے چھ، چھ سو نمبرات کو ساتھ ملاکر مجموعی طورپر سال بھر کے نمبرات 1560 بنتے ہیں ۔طلبہ وطالبات کی سالانہ کاکردگی کا موازنہ مجموعی نمبرات کی روسے ہوتا ہے اس لیے شرکاء کو ماہانہ تعلیمی جائزوں کے لیے اتنی محنت کرنی پڑتی ہے جتنی محنت چہارنیم ماہی یا سالانہ امتحان کے لیے درکار ہوتی ہے۔کامیابی کے لیے پچاس فیصد نمبرا ت کا حصول ضروری ہے ۔

ہردرجے میں سال بھر کے تمام جائزوں اوردوبڑے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے اول ،دوم اور سوم آنے والے طلبہ وطالبات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اورآئندہ سال کے اوائل میں ’’تقریبِ یوم سرپرستان‘‘ کے موقع پر طلبہ کو اور’’ تقریبِ یوم والدات‘‘ کے موقع پر طالبات کو انعامات سے نوازاجاتاہے اسی طرح پورے مدرسے کی سطح پر تمام جائزوں اور بڑے امتحانات میں اول ،دوم اورسوم آنے والے طلبہ وطالبات کو دیگر انعامات کے ساتھ ساتھ اعزازی شلیڈوں سے بھی نوازا جاتاہے ۔

امتحانات کے سوالیہ پرچے

امتحان داخلہ اور ماہانہ تعلیمی جائزوں کے پرچے چھ سوالات پرمشتمل ہو تے ہیں ۔جوسب کے سب لازمی ہوتے ہیں امتحان چہارنیم ماہی وسالانہ کے پرچے وفاق کے پرچوں کے طرز پر بنائے جاتے ہیں یعنی ہرسوال دوشقوں پرمشتمل ہوتاہے جن میں سے کوئی ایک شق حل کرنا ضروری ہو تا ہے اس طرح گویاہرپرچے میں تین سوال حل کرنے ضروری ہوتے ہیں،امتحان داخلہ کے مجموعی نمبرات ساٹھ ہو تے ہیں ۔جن میں طلبہ وطالبات کو قابلیت کی بنیاد پر داخلہ دیا جا تا ہے۔قدیم طلبہ وطالبات کے تجدید داخلہ کے بعد ہردرجے میں جتنی نشستوں کی گنجائش جد ید طلبا یاطالبات کے لیے ہوتی ہے ۔اس کے مطابق امتحان داخلہ میں حاصل کردہ نمبرات کی ترتیب سے داخلے کے جدید امیدوارطلبہ میرٹ پرانٹرویو کے لیے بلائے جاتے ہیں ۔

ماہانہ تعلیمی جائزہ میں چھ سوالات میں سے ہر سوال کے نو(9) نمبر ات ہوتے ہیں ۔اس کے ساتھ ہر سوال کا ایک نمبردرجہ ثانیہ تک خوشخطی اور اس کے بعدوسطانی اورفوقانی درجات میں عربی کے لیے خاص ہوتاہے گویا ہرپرچہ میں تحریری موادکے لیے چوّن (54) اور چھ نمبرات اضافی خوبیوں خوشخطی یا عربی کے لیے ہو تے ہیں جبکہ چہارنیم ماہی اور سالانہ امتحان میں پرچہ میں تحریری مواد کے لیے پچاسی نمبرات ہوتے ہیں ۔جن میں پچھترنمبرات سوالات کے جوابات کے ہوتے ہیں جبکہ اضافی خوبیوں یعنی خوشخطی اور عربی کے لیے دس نمبرات خاص ہوتے ہیں ،اور پندرہ نمبرات زبانی امتحان کے لیے خاص ہوتے ہیں ۔یوں ہرپرچہ کے سو(۱۰۰) نمبرات پورے ہوجاتے ہیں ۔

وضاحت نمبر۱۲

بعض درجات میں طلبہ کی تعداد زیادہ ہوتی ہے یا ’’الف ‘‘اور ’’ب‘‘ فریق ملنے کی وجہ سے تعداد بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے پرچہ کی چیکنگ کامعیار برقرار رکھنامشکل ہوجاتاہے اس لیے ان درجات کے لیے پھر ممتحن کے ساتھ ایک اوراستاد کاانتخاب کیاجاتاہے ، ناظم تعلیمات کی جانب سے استعداد کے مطابق ہر ایک استاد کے لیے سوالیہ پرچے میں سوالات متعین کردیے جاتے ہیں ،یوں ہردرجے میں بعض متعین سوالات ایک استاداور بعض دوسرے استاد چیک کرتے ہیں۔

وضاحت نمبر۱۳

ملحوظ رہے کہ جائزے اور باقی دوامتحانات میں اضافی نمبرات (بتفصیل بالا)میں سے خوشخطی کے نمبرات اولی ،ثانیہ کے لیے جبکہ عربی کے نمبرات اوپرکے وسطانی وفوقانی درجات کے لیے مقررہیں ۔

فیس بک پر پائیے

 

091-5240422 - 091-5240444

:رابطہ نمبرز

091-5272470

:فیکس

0333-2120608

:موبائل نمبر

jamiausmania1992@gmail.com

:ای میل
نوتھیہ روڈ  پشاور P.O. Box 1209 :ایڈریس
 

Copyright © Allrights Reserved 2017

پڑ ھنے میں دوشواری کے لیے ہیاں کلیک کریں

Powered By AK Tech. Solutions